Interview with Kashmiri Leader Raja Muzaffar

 کشمیری عوام   کے لیے آزادی کا مطلب  بھارت اور پاکستان  د ونوں سے آزادی  ہے

کشمیر ی دہلی و اسلام آباد میں کچھ لوگوں کی سازشوں کا شکار چلے آ رہے ہیں جنکے ذہن توسیع پسندانہ ہیں

 raja saheb

ممتازکشمیری رہنما راجہ مظفر سے انٹرویو  

ڈاکٹرقیصرعباس

سوال: آپ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں کافی عرصے تک سرگرم رہے ہیں۔ اس جدوجہد میں آپ کس طرح سے شریک ہوے اور اس میں آپ کا کیا کردار رہا  ؟

جواب:   ریاست جموں کشمیر کی وحدت اور آزادی کی بحالی کی سیاسی جدوجہد کا میرا سفر لگ بھگ پچاس سال پر محیط ہے ۔ جنگ بندی لائین کی منحوس لکیر اس یقین دہانی کے ساتھ سر زمین کشمیر کے سینے پر کھینچی گئی کہ اس سے کشمیری عوام کی پر امن آمد و رفت پر کوی قد غن نہ ہو گی، لیکن یہ بات ایک بڑا دھوکہ ثابت ہوئی۔ فوجوں کا انخلا اور گھروں کو واپسی کشمیر میں  ایک لا حاصل گورکھ دھندہ بن کر رہ گیا۔  اس  خونی لکیر   نے ہمارے گھر بار، خاندان، رشتوں ناطوں قبرستانوں  تک کو تقسیم کر دیا۔     خاندان کو یکجا دیکھنے کی خواہش نے  مجھے ایسے لوگوں کا ہم خیال بنا دیا جو  منقسم ریاست جموں کشمیر  کو یکجا کر کے اسے ایک آزاد و خودمختار درجہ دلانا چاہتے تھے۔   اور یہ خاندان کی سیاست سے پہلی بغاوت اور   سفر آزادی     کے آغاز کا سبب بنا۔    مظفرآبادہائی   اسکو ل میں راجہ خالد صاحب میرے ایک استاد ہو اکرتے تھے جو میرپور کے راجہ محمد افضل خان کے صاحبزادے تھے ۔ان سے میں نے کشمیر شناسی کا درس لیا ،  کشمیر سے پہچان انہوں نے ہی دلائی۔ پھر میرے تایا پیر مقبول گیلانی  نے  میری سیاسی تربیت کی اور  میں جموں کشمیر محاذ راے شماری میں شامل ہوا۔ اس طرح خاندانی  سیاست سے بغاوت کے ساتھ میرا سیا سی سفر شروع ہوا۔مقبول بٹ سرینگر جیل سے فرار ہو کر مظفرآباد  پہنچے تو انہیں گرفتار کر کے بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔  طلبہ کے ساتھ کالج کی یونین سیاست  میں متحرک تھا ،بٹ  صاحب کی رہائی کیلیے مظاہروں کا اہتمام   کالج طلبہ کو اپنا ہمنوا بنا کر  کیا   ۔کالج  کے ایک  طالبعلم رہنما پلندری کے خواجہ غلام نبی  ،  اور شیخ رشید نے بھی  میرے ساتھ بہت تعاون کیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب پاکستان کے وزیر خارجہ  بھٹو صاحب تاشقند معاہدہ  پر اختلاف کو  بنیاد بنا کر ایوب خان کے خلاف سول ایجی ٹیشن چلاتے ہوئے راولپنڈی پہنچے ۔پشاور روڈ پر میرے ایک کلاس فیلو عبدالحمید پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوئے ، اس طرح بھٹو صاحب سے قریب پہنچنے کا موقع ملا اور ان تک بٹ صاحب کی بابت معلومات پہنچائیں ، انہیں پہلے ہی کسی نے بریف کر رکھا تھا اور پھر انہوں نے لیاقت باغ کے پہلے بڑے جلسہ عام میں مقبول بٹ کی رہائی کا مطالبہ کر کے  حکومت پاکستان کو انہیں رہا کرنے پر مجبور کر دیا۔   محاذ رائےشماری سے وابستہ  دیگر مرکزی کرداروں عبدالخالق انصاری، امان اللہ خان، جی ایم لون،  میر قیوم، جی ایم میر   اور دیگر لوگوں سے بھی ملاقاتوں کا موقع ملتا تھا،  سفر آزادی کی کھٹن منزلیں طے کرتے ہوے ۱۹۷۵ میں مشرق وسطیٰ منتقل ہو گیا۔ ہم خیال لوگوں کو تلاش کر کے  جمع کیا   پھر  برطانیہ میں جموں کشمیر محاذ رائے شماری کی کوکھ سے جنم لینے والی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ  بنی ، ابتدا میں پاکستان آزاد کشمیر میں اس کی شاخیں کھولنے کے حق میں نہیں تھا ، جب میں پاکستان واپس آیا تو پرانے ساتھیوں  ڈاکٹر فاروق حیدر ، ہاشم قریشی ، سردار رشید حسرت مرحوم کے اسرار  پر جموں کشمیرلبریشن فرنٹ  میں شامل ہوا ۔اس  تنظیم میں ہاشم نے جان ڈالی میں نے اس تنظیم میں بحثیت سیکرٹری جنرل  ، سینیئر وائیس چیر مین،   قائم مقام  چئرمین  اور سفارتی کمیٹی کے سربراہ کے طور بھی کام کیا ۔  ۱۹۹۴  تک تنظیم کے تمام  ہی درست یا غلط فیصلوں کا حصہ رہا۔ جب  امان اللہ خان  اور  یاسین  ملک  کے درمیان اختلافات پیدا ہوے  تو  میں نے تمام ہی عہدوں سے مستعفی ہو کر عملی طورپر تنظیمی معاملات سے علیحدگی اختیار کر لی  ۔  میں نے تنظیم و تحریک کو منظم کرنے میں جو کردار ادا کیا جو محنت کی جو ذہنی و جسمانی تکالیف اٹھائیں اس کا مجھے کوئی افسوس نہیں۔  میری خواہش ہے کہ ریاست جموں کشمیر میں لوگوں کو امن، انصاف، آزادی کی صبح نصیب ہو۔

سوال:کشمیر گذشتہ ساٹھ سال سے  جنوبی ایشیا  کے دو بڑے ملکوں کے درمیان کشمکش کا مرکز رہا ہے جو ایٹمی طاقت بھی ہیں ۔جب بھی اس خطے کا ذکر ہوتا ہے ان ہی دو ملکوں کے درمیان پسے ہوئے کشمیری عوام اور ان پر ہونے والے مظالم کا تذکرہ کم ہی ہوتا ہے۔ آپ کی نظر میں اس کی کیا وجوہات ہیں۔؟

جواب:کشمیر کے لوگ دہلی و اسلام آباد میں گنتی کے چند ایسے لوگوں کی سازشوں کا شکار چلے آ رہے ہیں جن کے ذہن توسیع پسندانہ ہیں۔ تنگ نظر ہیں اور انتہا پسندانہ سوچوں کے حامل ہیں۔ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ پاکستان کی جانب سے  قبائلئ حملہ  سے ایک قوم کی آزادی کا سیدھا سادہ  مسئلہ علاقائی تنازعہ بن کر رہ گیا ۲۰۔ جنوری ۱۹۴۸ کو سلامتی کونسل نے  رسمی طور  مسئلہ کشمیر کو ہند و پاک مسئلہ میں بدل دیا  ۔  بین الاقوامی سیاست کے حوالے سے یہ  وہ دور تھا  جب سویت روس کی حکومت کشمیر کے معاملہ پر غیر جانبدار تھی اور کسی حد تک مہاراجہ کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کرتی تھی اور کشمیر کے بائیں بازو کے چیدہ چیدہ سیاستدانوں سے براستہ کلکتہ رابطہ بھی تھا۔ سرینگر کے لال چوک کو ماسکو کے ریڈ سکوئر سے بھی تعبیر کیا گیا۔ ان ہی دنوں روس کے تبصرہ نگاروں نے بھارتی افواج کو جارح قرار دیا اور  لکھا کہ پاکستان کے ساتھ راستوں کی بندش سے کشمیر کی اقتصادی صورت حال بگڑی ہے اور عوام اقتصادی بدحالی اور بے کاری کا شکار ہوے ہیں۔       ۲۳  دسمبر ۱۹۴۸ کو اپنے ایک خط میں بھارت نے  پاکستان کے وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان  کی جانب سے   دوسری قرارداد کے مسودے پر آمادگی ظاہر کر دی جو ۵ جنوری ۱۹۴۹ کو پاس ہوئی اور اس قرارداد نے تنازعہ  کشمیر کو دو ممالک کے درمیان وجہ تنازعہ بنا دیا۔  جموں کشمیر کا سوال بھارت و پاکستان کی حکومتوں میں بیٹھے پالیسی سازوں کیلیے انسانی مسئلہ ہے ہی نہیں ،  اہل کشمیر کے حق خود ارادیت پر قدغن ان کی سامراجی ذہنیت اور توسیع پسندانہ  سوچوں کی عکاسی کرتا ہے ۔

سوال: ایسا لگتا ہے کہ کشمیر کی اندرونی سیاست میں تین اقسام کی قوتیں کارفرما ہیں ، بھارت کی حامی، پاکستان کی حامی اور دونوں ملکوں سے آزادی کی حامی۔ آپ کے خیال میں زیادہ تر کشمیری کس دھڑے کی حمایت کرتے ہیں اور کیوں ؟

جواب: جی ہاں اس میں کوئی شک نہیں  کہ  جموں کشمیر میں تین سیاسی کیمپ ہیں ۔  وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں سے آزادی کی مانگ کرنے والوں کی   تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ وہ اب جموں کشمیر کے دونوں جانب ایک بڑی سیاسی  قوت سمجھے جاتے ہیں۔

سوال : اب تک مسلہ کشمیر کے حل کے جتنے بھی منصوبے پیش کیے گیے ان میں سابق صدرپاکستان پرویزمشرف کا چار نکاتی فارمولا سب سے ذیادہ مقبول رہا ہے۔ ایک کشمیری کی حثیت   سےآپ اس فارمولے کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

جواب: مشرف کے چار نکاتی فارمولےپر بقول   سابق پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری بھارتی حکومت نے مذاکرات   کرنے پر  آمادگی ظاہر کی تھی ۔ مشرف تجاویز میں دو کشمیر کی بات  ہوتی رہی، بھارت کی جانب سے کنٹرول لائین کو غیر متعلقہ بنا دینے کی باتیں ہوئیں  خودمختاری اور سیلف گورننس کی باتیں ہویں۔ جموں کشمیر میں اعتماد سازی کے نام پر پرمٹ سسٹم پر محدود  پیمانہ پر ہی سہی آمد و رفت کے راستے کھولے گے ، کشمیریوں نے مثبت رد عمل کا اظہار کرتے ہوے سارے عمل کی سیاسی حمایت     کی لیکن  کشمیریوں سے براہ راست ایک فریق کی حیثیت سے کسی نے نہیں پوچھا ۔  میرا ذاتی خیال ہے کہ  بھارت و پاکستان کو جموں کشمیر کا کوئی آؤٹ آف  باکس ہی ایسا حل تلاش کرنا ہو گا  جو قابل عمل ہواور بھارت و پاکستان کے ساتھ ساتھ مکمل آزادی کی مانگ کرنے والے کشمیریوں کیلیے قابل قبول ہو۔

سوال: پاک بھارت مذاکرات کا گھٹتا بڑھتا مد و جذر اب پھر عروج پر ہے اور حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم کا لاہور کا خیرسگالی دورہ مذاکرات   کی نئی راہیں ہموار کرتا نظر آتا ہے۔ آپ کے خیال میں ان مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلیے کیا حکمت عملی کامیاب ہو سکتی ہے۔؟

جواب:  ۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ بھارت و پاکستان کے مابین   غیرمشروط  کمپوزٹ ڈایئلاگ   میں جموں کشمیر کا سوال ایک الگ باسکٹ کے طور شامل ہے اس لیے کشمیری عوام سمجھتے ہیں کہ بھارت و پاکستان کے مابین بات چیت کی بحالی کا عمل ان کے مفاد میں ہے کشمیر کی سیاسی قوتوں نے اس کا خیر مقدم بھی کیا، کشمیری لیڈر شپ کو یقین ہے کہ جب کشمیر پر بات ہو گی تو اس میں کشمیریوں کو بات چیت عمل کا حصہ بنایا جائے گا۔ چونکہ بھارت و پاکستان کی حکومتوں کو یہ احساس ہو چلا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیری لیڈر شپ کی موثر شراکت  کے بنا حل نہیں ہو پاۓ گا۔   اگرچہ  پٹھان کوٹ ائربیس پر دہشت گرد حملے نے  اس سارے عمل اور محنت کو سخت نقصان پہنچایا ہے ، دونوں جانب کی لیڈرشپ سنجیدگی سے ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے مذاکرات کی مخالف قوتوں کو بات چیت کا عمل ناکام کرنے میں  کامیابی نہ مل سکے  ۔پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملے میں پاکستانی عناصر کے ملوث ہونے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک چھ رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا ہےاور جیش محمد تنظیم کے سرکردہ لیڈروں کوگرفتار کیا گیا ہے۔ یہ مثبت اقدامات ہیں  جن پر اعتبارنہ کرنے کی کوئی وجہ نظرنہیں آتی۔

سوال : پاکستان کا موقف یہ رہا ہے کہ کشمیر میں راے شماری اور مذاکرات میں عالمی ثالث کی شمولیت کو تسلیم کیا جائے جب کہ بھارت ان دونوں تجاویز کو ماننے سے انکار کرتا رہا ہے۔ آپ اس صورتحال کا کس طرح سے تجزیہ کرتے ہیں۔

جواب:    پہلی جنگ میں ہی اقوام متحدہ نے ثالث بن کر جنگ بندی کرائی اور ایک معاہدہ پر دستخط کرائے جس کی رو سے پاکستان   اور بھارت کو ریاست جموں کشمیر سے اپنی اپنی افواج کو نکالنے  اور رائے شماری کرانے کو کہا گیا تھا۔ ۱۹۶۵ کی جنگ ہوئی تو روس کی ثالثی میں تاشقند معاہدہ ہوا،  ۱۹۷۱ کی جنگ میں اقوام متحدہ نے جنگ  بندی کرائی اور شملہ سمجھوتہ ہوا۔ کارگل جنگ میں امریکہ نے کردار ادا کیا ۔ ا  س پس منظرمیں ثلاثی سے انکار کی بات سمجھ نہیں آتی۔

سوال:  برصغیر کی تاریخ اور موجودہ صورت حال کے تناظر میں آپ کے خیال میں مسٔلہ کشمیرکا مستقبل کیاہے؟

جواب:   آج خطے میں جوحالات ہیں دہشت گردی اب کسی ایک قوم یا ملک کا مسٔلہ نہیں رہااور اس عفریت  سے سب کو مل کر لڑناہے۔ بھارت اور پاکستان میں کچھ لوگوں نے نفرت کی جو فضا بنارکھی ہے اسے دونوں ہی ملکوں کی سیاسی قیادت نے مل کر لڑناہے۔اچھی بات یہ ہے کہ اگر بھارت و پاکستان صدق دل سے کشمیریوں سے بات چیت کرینگے اور مسٔلہ کا کوئی منصفانہ حل تلاش کرنا چاہیں گے توکشمیری قیادت ان کے ساتھ بھر پور تعاون کرے گی ۔ میرا خیال ہے کہ حالات دھیرے دھیرے مستقل بنیادوں پر قیام امن کی کوششوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جنگ علاقے کے تقریباً تین ارب انسانوں کے مفاد میں نہیں۔ علاقے میں اقتصادی سرگرمیوں کی ضرورت اور مواقع بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں چین بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے، بھارت خطے میں مضبوط اقتصادی طاقت کے طور ابھرنا چاہتا ہے ، افغانستان کے لوگ امن و سکون چاہتے ہیں ۔ ایسے میں جموں کشمیر کے ایک قابل قبول حل پر سب کے راضی ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ جموں کشمیر کے عوام خوف و دہشت کی فضاسے باہر آ کر امن و سکون اور آزادی کی فضا میں سانس لینا چاہتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ کشمیر ایشیا کا سوئٹزر لینڈ اور امن پارک بنے گا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔

Article on Satyapal Anand published in Zavia

ستیہ پال آنند کا پانچواں جنم اور پہلا عشق

 ڈاکٹرقیصرعباس

Satyapal Book Title Page

اگرچہ ستیہ پال آنند نے اپنی نو مطبوعہ سوانح کا عنوان رکھا ہے  کتھا چار جنموں کی لیکن اکّیا  سی برسوں پر پھیلی اس کتھا کا خالق شاید اب پانچویں جنم میں داخل ہو چکا ہے ایک انگریزی شاعر کے روپ میں۔ حال ہی میں ستیہ پال کے انگریزی شاعری کے پانچ  مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں جن میں بیشتر نظمیں ان کی اردو نظموں کے تراجم ہیں۔ ویسے تو انگریزی کے پروفیسراور مصنف کی حیثیت سےیہ ان کی لئے کوئی نئی بات نہیں مگرشاعر، ناول نگار، افسانہ نگار،اورمحقق کے علاوہ انگریزی شاعر ی  بھی  اب ان کی نئی پہچان ہے۔یہ ان کا پانچواں جنم ہویا نہ ہو مگر یہ تو طے ہے کہ ان کی زندگی کا پہلا اور آخری عشق بیـ وی  یعنی  بلینک ورس  ہی ہے! اردو نظموں کی صورت میں اپنی اس محبوبہ کو انہوں نے اسوالہانہ انداز میں چاہا ہے کہ اب وہ خود بھی اس کی پہچان بن گئےہیں۔

پانچ سو سے ذیادہ صفحات کی اس ضخیم  کتاب کے اختتام تک پہنچتے پہنچتے قاری کو احساس ہوتا ہے  کہ وہ دراصل اردو ادب کی پوری تاریخ پڑھ گیا ہےاور بقول ستیہ پال یہ ان کی سوانح نہیں ان کی پوری عمرپر پھیلی  یادداشت ہےجو چار حصوں پر مشتمل ہے۔  کتاب کا پہلا حصہ پاکستانی پنجاب میں ان کی ابتدائی زندگی اور بٹوارے کے بعد ہندوستان تک ان کی ہجرت کی داستان ہےجب وہ صرف تیرہ برس کے نوجوان تھے۔دوسرا حصہ حصولِ علم ،معاشی جدو جہد، تیسرا حصہ برصغیر میں ان کی ادبی و علمی سرگرمیاں اور آخری حصہ دنیا بھر میں ان کی ہجرتوں کے طویل سلسلوں  کا تذکرہ ہے۔ زندگی کی ان چار منزلوں کو طے کرتے ہوئے اب وہ  اکیاسی برس کی عمر میں واشنگٹن میں قیام پذیر ہیں جہاں ان کا قلم جو اب کمپیوٹرکی شکل اختیار کرگیا ہے، اسی طرح رواں دواں ہے جس طرح   پچاس سال پہلے تھا۔اس طویل سفر کےدوران اس قلم  نےپچاس سے ذیادہ کتابیں اردو، ہندی،انگریزی اور پنجابی میں تخلیق کی ہیں ۔مجموعی طورپر اردو میں کئی  معیاری سوانح  تخلیق ہوئی ہیں لیکن ستیہ پال کی اس نئئ سوانح کو اس لحاظ سے ہمیشہ فوقیت حا صل رہے گی کہ   یہ تازہ تصنیف ایک پورے عہد کی علمی و ادبی تاریخ  ہے جس کی بنیاد سچے جذبے، بے باک پیرائہ اظہار اور دانشورانہ تجربے پر رکھی گئ ہے۔

ان کا پہلا جنم ان کی ابتدائی زندگی، چکوال کے ایک قصبے کوٹ سارنگ کی یادوں اور پھر بٹوارے  کےدوران اذیت ناک ہجرت کے واقعات پر مشتمل ہے جس میں ان کے والد بھی فسادات کی نذر ہو گئے تھے۔ مصنف نے اپنی ابتدائی زندگی کی اس داستان کو ڈاکو فکشن  کی تکنیک  یعنی دستا ویزی کہا نی کے زریعے بیان کیا ہےجس سے کہانی کا تاثراور بھی  گہرا ہوگیا ہے۔  یہ ان کی ابتدائی زندگی کی روداد کے علاوہ اس دور کے معاشرتی روابط پر بے لاگ تبصرہ بھی ہےجس کےخصوصیت بھائی چارے کی وہ فضا ہے جس میں ہندو مسلم،عیسائی اور سکھ سب مل جل کر رہتے اور ایک دوسرے کی مدد کرتے تھےمگر دیکھتے ہی دیکھتے سب نفرتوں کی آگ میں اس طرح جھلستے ہیں کہ ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ان کا دوسرا جنم ہجرت کے بعد ہندوستانی پنجاب میں ان کی معاشی جدوجہد اور   ایک پبلشنگ کمپنی میں ملازمت ہےجہاں وہ اردو ہندی تراجم، افسانےاور ناول نگاری کے زریعے خاندان کی پرورش کرتےنظرآتے ہیں ۔  اسی دوران وہ نہ صرف اپنے خاندان کی کفالت بلکہ منشی فاضل، ایم اے اور پی ایچ ڈی مکمل کرکے انگریزی  ادب کے پروفیسر بن جاتے ہیں۔ ابتدا ئی طور پر وہ اردوکےناول نگار اور افسانہ  نگار کی حیثیت سےابھرے  اور

تک چار ناول ، افسانوں کے دو مجموعےتخلیق کئے جن میں تجرباتی ناول  چوک گھنٹہ گھر بھی شامل ہے جس پر حکو متِ وقت نے پابندی بھی عائد کی۔ اس جنم کا بیشتر حصہ ان کی دانشورانہ چپقلشوں اور  ادبی معرکوں پر مبنی ہے۔ ستیہ پال کا چوتھا جنم ان کی زندگی کاوہ ورق ہے جو انہوں نے برطانیہ، کینیڈا، سعودی عرب، یورپ اور پھر امریکہ میں گزارا ۔ یہ جنم دراصل ان کی اولین ہجرت کے بعد نقل مکانیوں  کے طویل سلسلوں کی کڑیاں ہیں جس میں وہ ایک تجربہ کار مصنف، معروف شاعراور انگریزی  اسکالر کی حیثیت سے  اپنا سکہ منواچکے ہیں۔ چارجنموں کی یہ کتھا قاری کو اردو اور ہندی ادب کے قلم کاروں، ان کے رجحانات اور خیالات  سے بھی روشناس کراتی ہےجس کے توسط سے مصنف نے ان ادیبوں کے فکری اسلوب اپنے تبصروں کے ساتھ قاری تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ اپنے بے باکانہ انداز میں انہوں نے کئی نامور لکھاریوںکو اپنی سخت  تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے جن میں سےبیشتر ترقی پسند شاعر یا نثرگار ہی ہیں۔  ڈاکٹر وزیر آغا   اور تلوک چند محروم  کی طرح ہندی اور اردو مصنفین میں صرف چند ہی خوش قسمت ہوں گے جو ان  کی تنقیدی  نظرسے بچ نکلے ہوں۔ وزیر آغا ے  متعلق جن کے ادبی مقام سےوہ ہمیشہ متاثررہے لکھتے ہیں

میں ان کی شخصیت سے اتنا مرعوب تھا کہ کسی ادبی مسئلے پر اپنی رائے لکھنے سے پہلے خوب غور و خوص کیا کرتایہاں تک کہ خط لکھنے کے بعد بھی ہر ایک جملے کو بار بار پڑھتا مبا دا کہ کوئی بات غلط نہ لکھی جائے۔

اس کے بر عکس وہ فیض احمد فیض کے بارے میں کہتے ہیں:

 مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ  یا اس جیسے غنائی نغمے فیض نے انقلاب کو رومان کی آنکھ سے دیکھنے کے لئے ہی تو لکھے ہیں۔ لیکن ان سے عوام کی کیا خدمت ہوسکتی ہے؟

  ممتا زناول نگار شو کت صدیقی پر تبصرہ کچھ اس انداز میں کرتے ہیں:

جس شخص کے بارے میں کسی نے کہا تھا کہ وہ سوتے ہوئے بھی ایک قلم سرہانے، ایک قلم ٹیبل لیمپ کے ساتھ اور ایک  کان میں اٹکاکر رکھتاہےاس کے لئے کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ اپنی گوناگوں مصروفیتوں کےساتھ تخلیقی کام بھی جاری رکھتا؟

افسانہ نگار کرشن چندر کےایک نا ول پرا ن کی تنقیدکچھ یوں ہے:

 وہ ایک فاش غلطی کے مرتکب ہوئے یعنی اپنے ہیروکے انتخاب میں بھی وہ چوک گئے۔ راگھوراؤ ہیرو کا نام ہے اور یہ نام اونچے برہمن گھرانوں میں پایا جاتا ہے کھیت مزدوروں میں نہیں۔

البتہ ایک اور جدید شاعر ساقی فاروقی  کے متعلق ان کی رائے اتنی منفی نہیں:

میں اس شخص کی قدر کرتاہوں جو انگلستان جیسے اردوکُش ملک میں رہتا ہو ، ایک عدد جرمن بیوی سے بیاہاہوا ہونے کے باوجود ابھی تک      

نہیں ہوپایا۔

 شاید یہ کہنا ذیادہ بہتر ہو کہ یہ یادداشت دراصل مصنف کی ذاتی زندگی، انفرادی روداد اور خاندانی حالا ت پر نہیں اس کی ادبی  زندگی پر لکھی  گئی ہے۔کتاب کی ایک خاص بات یہ  بھی ہے کہ اس میں مصنف  نے جن چیدہ چیدہ  ادبی مسائل پر نظر ڈالی ہے وہ  ان کی انجمنِ ترقی پسند مصنفین سے وابستگی اور پھر علیحدگی،  غزل سے ان کی بیزاری، نظم سے بے لوث لگاؤ، اور بیشتر  ترقی پسند اردو ادیبوں سے ان کے نظریاتی اختلافات ہیں۔

وہ ہجرت کی بعد ہندوستانی پنجاب منتقل ہوئے تو ان کا ابتدا ئی حوالہ انجمنِ ترقی پسند مصنفین ہی تھالیکن کچھ عرصے بعد ہی نظریاتی اورذاتی بنیادوں پر ان کے اختلافات بھی سامنے آگئے۔  ہو ا یوں کہ وہ ایک اردو ادیب کی حیثیت  سے پنجاب پہنچے تھے اور چونکہ      پنجابی ادب یہاں   سکہِ رائج الوقت تھا ان کی پذیرایئ بھی خاص نہیں ہوئی۔ دوسری طرف وہ نظریاتی طور پربھی ادب برائےادب  ہی کے قائل تھےجبکہ تمام ترقی پسند قلم کار ادب کوزندگی اور اس کے مسائل کے آئینہ ہی سے دیکھنے  میں یقین رکھتے تھے۔ ان ہی دو وجوہات کی بنیادپر ان  کی نہ صرف    تحریک سے بلکہ ترقی پسندادیبوں سےبھی ذیادہ نہیں بنی۔ اپنے ہم  عصر اردو اور ہندی لکھاریوں سے انہیں ہمیشہ یہ شکایت بھی رہی کہ سب انگریزی ادب اور اس کے مساٰئل سے ناواقف ہیں مگر وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ با قی سب دانشور ان کی طرح انگریزی ادب کے استاد اور ماہر نہیں ہیں اور نہ انہوِں نےاس کی تعلیم حاصل کی ہے۔

 ان کے نزدیک نظریاتی  بنیاد پرلکھے گئےادب کی کوئی حیثیت نہ تھی اور اسی بنا پر انہوں نے تحریک سے وابستہ لکھنے والوں کو کبھی گھاس نہیں ڈالی۔ ان کی سوانح میں جگہ جگہ فیض احمد فیض، احمدفراز، فہمیدہ ریاض، حبیب جالب، کشور ناہید، سعادت حسن منٹو  اور اس قبیلے کے دوسرے ادیبوں پر سخت تنقید کی گئ ہے۔ اسی حوالے سے ستیہ پال اس ادب کو جو معاشرتی استبداد، جبر ،     غربت اور جنسی استحصال جیسے مسائل کی بات کرے کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ شاید اسی لئےتحریکِ نسواں اور مزاحمتی ادب  کو  وہ وقتی اور کم تر سمجھتےہیں۔اپنے ہم  عصر ترقی پسندوں پر ان کے اعتراضات اپنی جگہ مگر آج کے دور میں وہ ادب جو زندگی اور اس کے گونا گوں مساٰئل سے کنارہ کشی اختیارکرےمحض دانشورانہ مشقت  کےاور کچھ نہیں۔ ہر ادیب اور فن کار اپنے معاشرے کی پیداوار ہوتا ہے اور اس کا فن اس  کے اندرونی یا خارجی محسوسات  اور محرکات سے الگ نہیں رہ سکتا۔

ستیہ پال کی غزل پر تنقید بھی اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی جس کا اظہار انہوں نے اس تصنیف میں بھی کھل کر کیا ہے۔ اپنی ادبی زندگی کی آغازمیں وہ تلک چند محروم سےگورڈن کالج راولپنڈی میں متعارف ہوئے جو اردو نظم کےحامی اور غزل کی مخالفین میں سے تھے ۔ ستیہ پال  اب اردو ادب کے معروف نظم گو شاعر کے طور پرپہچانے جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہےکہ  وہ عمر بھر تلوک چند  کےاثر باہرنہیں نکل سکے۔ غزل پر  ان کے اعتراضات اس  کی ساخت ، اسلوب، متن اور مو ضوع کی یکسانیت  پر    ہیں جو بڑی حد تک جائز بھی ہیں۔اروو غزل اگرچہ کوئی ایسی بری صنف بھی نہیں مگر ہوا یوں کہ  چند جدت پسندوں کو چھوڑ کر اردو کے بیشتر شعرا  مو ضوع کےاعتبار سے  اٹھارویں صدی ہی میں محبوس نظر آتے ہیں۔ بحر، قافیہ اور ردیف کو اگر تسلیم بھی کرلیا جا ئے کہ یہ غزل کےلازمی عناصر ہیں اس کی موضوعاتی تشکیل تقریباََ ایک ہی رہتی ہے بس الفاظ اور شاعر کا  اندازِ بیاں زرا مختلف ہو تا ہے۔ستیہ پال کی رائے میں غزل کا تعلق لکھنے لکھانے سے نہیں سننے سنانے سے ہے جوکسی حد تک درست بھی ہے۔

غزل پر ان کا ایک اور اعتراض اس کی ساختیاتی پابندیاں بھی ہیں جس میں رہ کر تخلیقی عمل بھی محدود ہو جاتا ہےاور شاید یہی وجہ ہے کہ غزل کا دائرہ صرف گنے چنے موضو عات تک ہی رہ گیا ہے۔لیکن تعجب خیزامر یہ ہے کہ جدید نظم یا بلینک ورس  میں انہوں نے  خود بھی بحر کی باقاعدہ پابندی کی ہے اور بقول ستیہ پال کے ان کی تمام نظموں کی علمِ عروض کی بنیاد پر تقطیع بھی کی جاسکتی ہے۔ستم  ظریفی دیکھئے کہ ساختیاتی پابندیوں کا سب سے بڑا  نا قد جوغزل کوصرف اس لئے رد کرتاہے کہ یہ صنف بحر اور ردیف قافئے کی زنجیروں میں گرفتارہےجب نظم لکھتاہےتو خود ان پابندیوں سے با ہر نہیں نکل سکتا؟  غزل کی ان سب خا میوں کے باوجود اس صنف کی مقبولیت ابھی تک قائم ہے جس کی وجہ گائیکی کی رنگارنگ محفلیں اور مشاعروں کاچلن ہے۔ دنیا بھر میں برِ صغیرکے باسیوں نے اور اردو کے چاہنے والوں نے بے سروپا مشاعروں کے انعقادہی کو زبان کی خدمت سمجھ لیاہے۔   مشاعرے جو کبھی    اردو    کی پہچان تھے اب سستی تفریح کا زریعہ ہوکررہ گئےہیں البتہ موسیقیت میں ڈوبی غزلوں کا سحر ابھی باقی ہے اور شاید کچھ دن  اور باقی رہےگا ۔شاید اسی لئے ستیہ پال غزل کوایک ایسی بوڑھی طوائف قراردیتےہیں جس کی قیمت ابھی تک نہیں گری۔

ستیہ پال نے اردو شاعری کو اپنی نظموں کے زریعے جو  جدیدیت بخشی ہےاس کے لئے اردو ادب ہمیشہ ان کا احسان مند رہے گا کہ ان کا قد اپنے ہم عصروں میں بہت اونچا ہےاور رہےگا ۔ نظم گوشاعر کی حیثیت  سے وہ ن م راشد، میراجی،وزیر آغا اور ساقی فاروقی جیسے باوقارشعرا کے ہم رکاب ہیں۔     وہ اگرچہ ترقی پسند  نہیں روشن خیال ضرور ہیں، نظریاتی نہیں حقیقت پسند ہیں، مذہبی نہیں مگر صوفیانہ چال ڈھال رکھتے ہیں اوراگر ما بعدجدیدیت میں نہیں تو جدیدیت کی صف میں ضرورشامل ہیں ۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کو ان ہی  حوالوں سے  پہچانا جائےگا۔

ستیہ پال کی زندگی کا سفراگرچہ ہجرتوں کے ایک لا متنا ہی سلسلے کی داستان ہے مگروہ پہلی ہجرت جس نے انہیں دیس نکالا دیا ہمیشہ ان کی یادو ں میں زندہ رہی ہےاور ان کی کئی نظموں کا عنوان بھی  ہے۔ ایسی ہی ایک نظم کا آخری بند یہ بھی ہے:

جڑیں جب کٹ گئی ہوں، کوئی

جنگل کو کہاں تک اپنی روح میں رکھے؟

جڑوں سے ٹوٹ کر اپنی

میں اب تک تو رہا ہوں باہر کی دنیا میں

مگر اب تھک گیا ہوں۔۔۔

لوٹ جانا چاہتا ہوں اپنے جنگل میں۔

برصغیر کی موجودہ سیاست کے پیشں نظراپنی جائے پیدائش میں واپسی کی ان کی دیرینہ خواہش تو شاید کبھی پوری نہ ہو سکے مگرامریکہ آنے کے بعد وہ پاکستان آتےجاتےرہتے  ہیں۔

 کتاب پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں   جو سوالات اٹھے وہ میں نے انہیں لکھ کر ای میل کردئے اس امید پر کہ شاید ان سے اہم ادبی مسائل کو سمجھنے میں کچھ مدد ملے جو تشنہ رہ گئے ہوں ۔ میری خوش قسمتی کہ دوسرے دن ہی جوابات میرے ای میل میں موجود تھےجو درج ذیل ہیں:

سوال: آپ کی سوانح  ایک اہم ادبی عہد کی داستان ہے جس کا ذیادہ تر حصہ بر صغیر کے ممتاز قلم کاروں سے آپ کی ملا قاتوں اور علمی وادبی مسائل کی گفتگو پر مشتمل ہے۔ اس میں آپ کی زندگی ، خاندان اور انفرادی واقعات کم ہی  نظر آتے ہیں۔ اس کی کوئی خاص وجہ؟

جواب: یہ خود نوشت سوانح نہیں ہے، یاداشتوں کا مجموعہ ہے۔ اس لحاظ سے یہ جوش ملیح آبادی کی “یادوں کی برات” یا ساقی فاروقی کی “پاپ بیتی” یا کشور ناہید کی “ایک پاپی عورت کی کتھا” سے مختلف ہے کہ اس میں ذاتی، موروثی، نسلی، خاندانی متعلقات بالکل نہیں ہیں۔ یاداشتوں کا یہ مرقع میری ادبی ریاضت کی داستان ہے۔ اس میں راقم ایک بُدھّ بھکشو کی طرح ، اپنا کشکول اٹھائے ہوئے ، در بدر “گیان کی بھیک ” مانگتا نظر آتا ہے۔اس لیے وہ ہر اُس دروازے پر دستک دیتا ہے، جہاں سے اسے یہ “بھکشا” ملنے کی امید ہوتی ہے۔ اس کتھا کا پہلا “جنم” البتہ “ڈاکوفکشن” کی تکنیک میں تحریر کردہ ہے، یہ باقی کے تین جنموں سے مختلف ہے۔ اس میں بچپن سے لڑکپن کی پہلی نا پختہ بلوغت کی کہانی ہے جس میں البتہ پنپتی ہوئی شاعرانہ قدرت کے آثار بھی نظر آتے ہیں۔

سوال: آپ کا شمار ان قلم کاروں میں ہو تا ہے جنہوں نے اردوشاعری کوایک نئی روش سے آشنا کیا ۔ اردو نظم کو آپ اور کچھ دوسرے شعرا نے جو رتبہ دیا اس کی بنیاد پر کیا آپ  کہہ سکتے ہیں کہ اردو نظم کو اس کا اصل مقام حاصل ہو گیا ہے؟

جواب:  جی نہیں ۔۔۔یہ منزل بہت دور ہے۔ اردو کو صنف غزل نے پیر پا بستہ کی طرح باندھ رکھا ہے۔ میں گذشتہ تین مہینوں میں دو بار   پاکستان گیا ۔ پہلی بار کراچی میں تین ہفتے اور دوسری بار اسلام آباد، سیالکوٹ اور لاہور میں دو ہفتے۔۔ان دو روں کے دوران جہاں میری کھل کر پذیرائی ہوئی اور مجھے نئی اردو نظم کا رہنما بھی کہا گیا،  یہ امر بھی کھل کر سامنے آیا کہ غزل کے پیروکار کسی طرح بھی یہ بندھن کھولنے پر راضی نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک غزل اور اردو شاعری ایک ہی صنف کے دو نام ہیں۔مجھے غزل کے حجرے کے نئے مجاوروں، بشمولیت ظفر اقبال، نے اپنے اخباری کالموں (روزنامہ “دنیا”) میں رومانی جذبے کی سطح پر “خصّی” قرار دیا، جو اپنی مردانگی کھو چکا ہے اور پیری میں ایسی غیر مردانہ باتیں کرتا ہے۔لیکن میں بالکل نا امید بھی نہیں ہوں۔ نظم گو شعرا کی ایک نئی پود باقاعدگی سے نظمیں لکھ رہی ہے۔ اس میں پنڈی،لاہور اور پنجاب  و خیبر پختونخواہ کے دیگر بڑے شہروں کے نوجوان شعرا شامل ہیں۔ کراچی اس لحاظ سے کچھ پیچھے ہے۔ یہ شعرا   آزاد نظمیں بھی لکھ رہے ہیں اور نثری نظمیں بھی ۔۔کچھ ایسے بھی ہیں جو نظم اور غزل ، دونوں اصناف میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔

سوال: انگریزی  کے پروفیسر ہونے کی بنا پرآپ کی انگریزی  ادب پر گہری نظر ہے۔ اپنی سوانح میں آپ اکثر یہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اردو کے ادبا انگریزی ادب سے نابلد ہیں۔ آپ کے خیا ل میں ان لکھا ریوں  سےجو اردو ،فارسی یا ہندی کے ماہرہیں کیا یہ توقع جائز ہے ؟

جواب:  جی نہیں، آپ سے یہ کس نے کہا کہ میں اردو شعرا کو انگریزی ادب کے مطالعے پر اکساتا ہوں؟ جی، بالکل نہیں۔ لیکن عالمی اد ب کی سطح پر یہ کرہّ زمین ایک گلوبل ولیج بن چکا ہے۔ انگریزی اس وقت بین الاقوامی زبان ہے۔ ادھر کوئی اہم کتاب دنیا کے کسی حصے میں بھی چھپتی ہے، اُدھر اس کا ترجمہ ہو کر کینیڈا، امریکا، برطانیہ میں شائع ہو جاتا ہے۔ انگریزی شعرا کی شاعری کے نمونہ جات ہم میٹرک سے بی اے تک اپنی درسی کتابوں میں پڑھتے ہیں۔ جدید شعرا کی شاعری کے نمونے (بشمولیت ٹی ایس ایلیٹ، جنہیں میں نے اردو نظم کے قالب میں ڈھالا ہے) سب کے سامنے ہیں۔ لیکن اس کا کیا کِیا جائے کہ غزل کا ایک شعر تُک بندی کی  سطح پر ایک آسان ترین مشینی عمل ہے، جس میں تخلیقی قدرت کی کارکردگی کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اور جونہی یہ کسی شاعر، متشاعر، یا استاد شاعر (میرے لیے ان میں تمیز کرنا دشوار نہیں ہے) چھہ یا زیادہ اشعار کی غزل موزوں کرنے میں کوئی دقت نہیں دیکھتا۔  انگریزی وہ ذریعہ ہے جس کے توسط سے ہم فرانسیسی، جرمن، روسی، اطالوی، یا جنوبی امریکا کا ادب پڑھ سکتے ہیں۔

 آپ نے فارسی اور عربی کا ذکر کیا۔ آپ سے ہی ایک سوال پوچھتا ہوں۔ کیا فارسی سے اردو میں براہ راست گذشتہ ساٹھ برسوں میں کچھ تراجم ہوئے ہیں؟ کیا عربی (خصوصی طور پر مصر اورلبنان کے) مصنفین کو ہم انگریزی کی وساطت سے نہیں پڑھتے ۔ اگر اردو میں ترجمہ بھی کرتے ہیں تو انگریزی کے ترجمہ شدہ متون سے، جن تک ہماری رسائی ہے کیونکہ ہم جدید فارسی اور عربی ادب سے نا آشنا ہیں۔ ہماری رسائی تو اٹھاروھیں صدی کے فارسی ادب سے آگے نہیں بڑھ پائی۔ ایران اور عرب اس بارے میں بے حد داخلیت پسند ہیں۔ حالانکہ غالب نے اپنے فارسی دواوین کو اردو پر فوقیت دی، ایران میں بطور فارسی شاعر انہیں کوئی نہیں پہچانتا۔ اقبال ہمیشہ فارسی کو منبع ٔ حکمت سمجھتے رہے ہیں، آج وہ ہمارے قومی شاعر ہیں۔ لیکن ایران میں ان کے نام کا ڈنکا نہیں بجتا۔ کہیں حاشیے میں ہی ان کا نام رکھا جاتا ہے۔ استنبول یونیورسٹی کے اقبال پر  ایک سیمینار میں مجھے اس بات کا تلخ تجربہ ہوا کہ ایران سے آئے ہوءے مندوبین اقبال سے صرف سطحی طور پر متعارف تھے،اور انہیں اقبال ؔلاہوری کے طور پر پہچانتے تھے۔۔۔  ان کے لیے اقبال فارسی ادب کی تاریخ میں حاشیے میں یا فُٹ نوٹ کے طور پر ایک بیرونی ریفرینس سے بڑھ کر نہیں تھا۔ وجہ؟ اقبال کی شاعری کی ناکافی، بے حد بُری، “بابو انگلش ” کی سطح پر ترجمہ کی ہوئی کتابیں، یا پھر اقبال کی شاعری (جو شاعری کم اور منبر سے بولتے ہوئے طلاقت سے بھرپور مقرّر کی زبان زیادہ ہے) جدید یورپ کی شاعری سے لگا نہیں کھاتی)۔

سوال: ہجرت کے بعد آپ ہندوستانی پنجاب میں انجمنِ ترقی پسند مصنفین سے وابستہ رہے۔ لیکن چونکہ آپ اردو کےادیب تھے پنجابی کے نہیں آپ کی انجمن میں کو ئی خاص پذیرائی نہیں ہوئی اور آپ تحریک سے الگ ہو گئے۔ کیا یہ کہنا درست ہے کہ آپ کی علیحدگی ذاتی وجوہ کی بنیادپر تھی نہ کہ نظر یاتی  بنیادوں پر؟

 

جواب: نظریاتی سطح پر تھی، جناب۔۔اس کے لیے آپ کو “کتھا” کے متعلقہ صفحات، بشمولیت بھیمڑی کانفرینس میں میری شمولیت، اختر الایمان سے میری ملاقاتیں، وغیرہ دوبارہ پڑھنی پڑیں گی۔

سوال:  آپ نے اردو غزل کی مخالفت اس کی ساختیاتی پابندیوں بحر، ردیف اور قافیے کی بنیاد پر کی لیکن آپ کی نظمیں بھی بحر میں ہوتی ہیں  جن کی تقطیع خود آپ نے کی ہے۔ اس طرح تو آپ بھی غزل کی سب نہ سہی کچھ ساختیاتی پاندیوں ہی میں گرفتارنظرآتےہیں؟

جواب:  جی نہیں، میری نظمیں عروض کے عین مطابق ہیں لیکن وہ غزل کے فارمیٹ میں نہیں ہیں۔ (ایک) ان میں قافیہ یا ردیف کا چلن نہیں ہے (دو) غزل میں ہر شعر خود میں مکمل ، خود مختار، انفرادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ایک شعر معشوق کے حسن کی تعریف میں ہو، تو دوسرا رقیبِ رو سیاہ کے بارے میں، تیسرا دنیا کی بے ثباتی کے بارے میں، چوتھا زندگی کے سفر کو دشت نوردی کے استعارے سے  اور پانچواں اسی سفر کو بحری سفر کے استعارے کی عینک سے دیکھنے کی سعی ہے۔ گویا غزل کے دس اشعار میں دس الگ الگ مختصر ترین نظمیں ہیں۔ جبکہ میری نظمیں بلینک ورس ہیں، یعنی عروض کی پابندی کا دھیان رکھتے ہوءے بھی ہر نظم ایک ہی، اور صرف ایک ہی موضوع پر ہے۔ سطروں کی قطع برید میں غزل کی “یک پیمانہ” طوالت بھی نہیں ہے۔ “رن آن لاین” کا چلن اسے ایک سے دوسری سطر میں اپنی طوالت ضم کرنے میں آسانی دیتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

سوال:  آپ نے اپنی سوانح میں کچھ انگریزی مصنفین کے حوالے سے لکھا ہے کہ   سیاسی عقیدہ ایک چیز ہے اور تخلیق ایک دوسری۔ ایک قلم کار جو لکھتاہے وہ اس کی شخصیت سے الگ ہے۔  کیا آپ اسے دانشورانہ بد دیانتی نہیں سمجھتے کہ قلم کار کی فکر اس کی نگارش سے مختلف ہو اور ان میں کوئی مطابقت نہ پائی جائے؟     

جواب: “فکر” تو فن کا یقیناً غماز ہو سکتا ہے، لیکن “عقیدہ” نہیں۔ اگر “عقیدہ” آپ کو اس بات سے باز رکھتا ہے کہ آپ  “توریت” کو ، یا “گیتا” کو الہامی کتاب تسلیم کریں تو آپ اپنی شاعری میں کبھی نہیں کریں گے۔ “کتھا” میں یہ بات متعلقہ صفحات میں بے حد صاف بیانی سے واضح کی گئی ہے۔ کمیونزم کا عقیدہ اب کھوکھلا ثابت ہو چکا ہے، لیکن گئے وقتوں میں اردو کا ترقی پسند شاعر اس پر اسی طرح مضبوطی سے قائم تھا جتنا ایک وہابی اپنی طرز کے اسلام پر ہو سکتا ہے۔ ترقی پسندوں نے کچھ اہل قلم کو “ذات باہر” اسی لیے کیا کہ وہ ان کےساتھ نہیں تھے، چہ آنکہ وہ بڑے ادیب تھے۔

سوال: جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ امریکہ میں شاعری اب زریعہِ تفریح بن کر رہ گئی ہےجس کی کوئی ادبی حیثیت نہیں رہی اور بے سروپا مشاعروں ہی کو اب اردو کی خدمت کرنا سمجھا جاتاہے۔اس صورتِ حال کے تناظر میں کیا آپ امریکہ اور دوسرے ممالک میں اردو کے مستقبل سے پر امید ہیں؟

جواب:  جی نہیں، بالکل پر امید نہیں ہوں، اسی لیے میں مشاعروں میں شرکت نہیں کرتا۔ برصغیر کے شعرا ءاور شاعرات کو تو یہ ذریعۂ سیر و سیاحت اور کچھ ڈالروں کی وصولی کے طور پر بے حد اچھا لگتا ہے اور یہاں کے سپانسر اس سے نام و نمود (اور کسی حد تک اردو شعر و ادب میں اپنا مقام حاصل کرنے کے لیے) استعمال کرتے ہیں۔

______________