Poem for Edhi

Edhi Face

 

 

 

 

 

 

 

اب ہمیں کون دفنائے گا؟

قیصؔرعباس

بے خواب نگر کے جلتے

گلی کوچوں،

اور بارود ذدہ دھوؤں کے غبار میں گھرا،

پھٹا پرانا جوتا پہنے،

برسوں پرانا لبادہ اوڑھے،

اورتقریبا ایک صدی کا لاغر بدن سنبھالے،

چاروں اور

بکھرتے آنسوؤں کو

بو سیدہ جھولی میں سمیٹتا،

نومولود ’’گناہوں‘‘ کی زندہ پوٹلیوں کو

 گلے لگاتا،

اور لہولہان جسموں کی

بے جان کرچیوں کو جوڑکر

دفن کرتا،

 ایک تنہا مسافر

ابھی کچھ دیر پہلے

افق کےاس پار اترا

تونئےسورج کی

ابھرتی کرنوں

اورمسکراتی شفق کے جلو میں

اک نئے جہان کے باسی

 اس کے منتظر تھے،

مگر نہ جانے کیوں

کچھ چیختی آوازیں

ابھی تک

اس کے تعاقب میں تھیں:

ایدھی بابا !

اب ہمیں کون دفنائے گا؟‘‘

____

 

صنف نازک کے نام

ڈاکٹر قیصؔرعباس

 

شب کی بے خواب رداؤں میں

سمٹتے ہوئے پتوں کی صدا

مانند ہوئی

شاخ در شاخ عزاخانۂ غم

کُھل بھی گئے

ہرشجرغنچہُ جاں

اپنی ہتھیلی پہ لئے

روبھی چکا

بوالہوسی رسم جہاں

ہو بھی چکی

شاخ در شاخ

خزاؤں کے نقیب

پنکھڑیوں کا ہراک رشتۂ جاں

توڑچکے

کھلتے پھولوں کا لہو

چوس کے

ڈھانچوں کو

سرراہ گزر چھوڑچکے

اورپھرموردالزام بھی

گل ہی ٹھرے

چارہ گرو

کچھ توکرو

 

 

تعبیر

تعبیر

ڈاکٹر قیصرعباس

 

صبح دم آج

 مری نیند بھری آنکھ

گئ شب کے حسیں خواب کی

ہلکی سی جھلک

 لے کے اٹھی۔

دور وادی میں کہیں

ناچتے گاتے بچے

پھول چہروں پہ سجی

کھیلتی، ہنستی آنکھیں

کھلکھلا تی ہوئی شاموں میں

جوانی کی مہک

رقص کرتی ہوئی

راتوں میں

حنا کے صد رنگ

لہلہلاتے ہوےؑ کھیتوں میں

نئی فصل کی بھینی خوشبو

زندگی رنگِ شفق

رنگِ صدا

رنگِ بہار۔

کانپتے ہاتھ مرے

ایک دعا کو اٹھے

اےخدا !

آج مرے خواب کی

تعبیر ملے یا نہ ملے

معجزے ہوں کہ نہ ہوں

پھربشارت نئی صبحوں

ملے یا نہ ملے

اے خدا !

أج کوئی اچھی خبر

شہرِ آشوب سے

اس شہرِ بتاں تک پہںچے۔

 

ّّّّّّّّّّّّّّ

منادی

 منا دی

ڈاکٹر قیصرعباس

 

!جاگو

کہ مٹی کے گھروندوں کی

تمام بستیاں

پہاڑوں سے اترتے

مون سون کے پانیوں کی زد میں ہیں

چراگاہیں، میدان

گلیاں، بازار

مکان اور چوبارے

 کب کے زمیں بوس ہوے۔

!پکارو نوح کو

کہ سمندر کی تلاش میں

دوڑتی لہریں

چنگھاڑتا آسمان سروں پر اٹھاے

بچوں کا کل، بوڑھوں کا آج

اورجوانوں کے خواب

سب کچھ نگل رہی ہیں۔

!آواذ دو خضر کو

کہ منزلیں، فاصلے، راستے، پگڈ نڈ یاں

خانقاہیں، سرا ییں

اور ہنستی آنکھوں کے تمام منظر

اوجھل ہوے۔

قدم بڑھاؤ خشکیوں کی طرف

اور غورسے سنو

کہ کو بہ کو

:منادی ہوچکی

لوٹ جاؤاپنے اپنے گھروں کو

!کہ یہ سب تمہارے ہی گناہوں کا عذاب ہے

 

 

آدھا آدمی

( دو تہذیبوں میں بٹاہوا تارک وطن ) 

 

ڈاکٹر قیصرعباس 

آسمانوں  سے اتری

اجنبی مخلوق

یا خود کلامی میں

 ڈوبی صدائے بازگشت

ہنستا، گاتا

پرندِآوارہ

 دہکتےخوابوں میں

جلتا  پیکر

یا ادھ کھلے

دروازوں سے جھانکتا

معصوم با لک۔

بے نام جزیروں کے

اندھے کنوؤں سے

نکلنے کی کوشش ِنا کام میں

ان دیکھے

ہزار جگنوؤں 

کے تعاقب میں دوڑتا

 ہانپتا کانپتا

آدھا آدمی؟

جو کبھی

اپنادل چیر کے

 ندی کےبچھڑتےہوئے

دو کناروں پر

دفن کر آیا تھا

اور اب ان دونوں

کناروں پر کھڑا

اترتی بوندوں کے موسم میں

دن چڑھے

اپنے ہی پگھلتے پنجر

کا استقبا ل کرتا ہے۔

۔۔۔۔

 

 

پاتال گھر

ڈاکٹرقیصرعباس

 (ماہنامہ تخلیق نو،  نومبر ۲۰۱۴  )

سناہے

شہر کی گہری تہوں میں

ایک بستی ہے

جہاں بازار، نہ گلیاں

 نہ کو چے ہیں

فقط کھنڈرات میں لپٹا کوئی

ویران سا  پا تال گھر ہے

جہاں بس

 دھول سے لپٹی ہیں ذنجیریں

کئی ویران آ نکھیں

کھڑکیوں سے جھانکتی ہیں

اور رکھوالے ہیں بندوقیں سنبھالے

سناہے نیم مردہ ، نیم زندہ لوگ

 اس پاتال گھر میں

زندگی بیگار کرتے ہیں

    امیرشہر سے

ان کو شکایت تھی

بہت پہلے 

اسی پاداش میں ان کو

 یہاں بھیجا گیا تھا

مگر ان کو کسی سے اب

شکایت بھی نہیں ہے

کہ زندہ ہیں ابھی تک

سانس لیتے ہیں

غنیمت ہے

وگرنہ ان سے پہلے

اسی پاتال گھر میں

لوگ بے نام و نشاں

گاڑے گئے تھے

یہاں پاتال میں

أ نے کے رستے ہیں

 مگر باہر کا دروازہ نہیں ہے

یہاں جوآگیا

وہ پھر کبھئ واپس نہیں جاتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

دعا ئیہ نعت

ڈاکٹرقیصرعبا س

مرے مو لا

یہ تیرے چا ہنے والے

مرے اس عہد کے

سب یرغمالئ ہیں

مری صبحوں میں

بس اک رقص بسمل جاگتا ہے

لوگ سوتے ہیں

مری سب بستیوں میں

خوف کا آسیب پھرتا ہے

سسکتئ آہٹیں چپ چاپ

درواذوں سے لپٹئ جھانکتی ہیں

سلگتی وہشتوں کا شور

کو چوں میں لہوبن کر

 بکھرتا جا رہا ہے

جواں خوابوں کو

بوڑھئ سوچ ہاتھوں میں مسلتی ہے

بتوں کو آستینیں پھر میسر ہیں

مگر اب آستینو ں میں

کھلے خنجر چھپے ہیں

مری سب چاند جیسی بیٹیاں

پھر دفن ہوتی جارہی ہیں

مرے پیغمبر امن و اماں

مری گلیوں کی اندھے راستوں کو

پھر نئے سورج عطا کر

مرے لفظوں کوپھرسے

تاز  گی دے

مجھے پھرسے 

مسیحائ سکھا دے

کہ میرے عہد ک

 تیری ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔